کسی اجنبی سے کچھ نہ لے

✒ انتہائی اہم بات 🙋‍♂️
لاہور ڈی ایچ اے پٹرول پمپ پر ایک آدمی آتا ہے اور ایک عورت کو جو اپنی گاڑی میں پٹرول ڈلوا رہی ہوتی ہے پینٹر کے طور پر اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ وہ خاتون انکار کر دیتی ہے لیکن تکلفانہ اس کا وزیٹنگ کارڈ لے لیتی ہے۔ وہ خاتون پھر اپنی گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے روانہ ہوتی ہے۔

تب ہی وہ دیکھتی ہے کہ وہ آدمی بھی اسی وقت وہاں سے روانہ ہوتا ہے۔

کچھ منٹ کے بعد اس خاتون کو چکر آنے لگتے ہیں اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ وہ گاڑی کی کھڑکی کھولتی ہے اور محسوس کرتی ہے کہ خوشبو اس کے ہاتھ سے آ رہی ہے۔ اسی ہاتھ سے جس سے اس نے وہ وزیٹنگ کارڈ پکڑا تھا۔ وہ پھر نوٹس کرتی ہے کہ اس آدمی کی گاڑی اس کے پیچھے ہے۔ اس خاتون کو محسوس ہوتا ہے کہ کچھ کرنا چاہیے۔

وہ راستے میں آنے والے پہلے پٹرول پمپ پر رک جاتی ہے اور مسلسل ہارن بجانا شروع کر دیتی ہے مدد مانگنے کے لیے۔ وہ آدمی جب یہ دیکھتا ہے تو بھاگ جاتا ہے لیکن اس خاتون کو اگلے کئی منٹوں تک سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ کافی دیر بعد اس کا سانس بحال ہوتا ہے۔

بظاہر وزیٹنگ کارڈ پر ایک دوائی لگی تھی جو سانس لینے کے ساتھ ہمارے جسم میں داخل ہو جاتی ہے۔ اس دوائی کا نام burundaga ہے۔ اور یہ جرائم پیشہ افراد اپنے ٹارگٹ کو قابو میں کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ سیمپل کارڈ پر ٹرانسفر ہو کر پکڑنے والے کے ہاتھ سے اس کے سانس کے ساتھ جسم میں داخل ہو کر سانس لینا مشکل کردیتی ہے…

لہذا جب آپ اکیلے ہوں گھر پر یا گاڑی چلا رہے ہیں اور اکیلے گلی میں ہیں تو کسی سے بھی وزیٹنگ کارڈ نہ پکڑیں۔ آپ اس دوائی کو گوگل پر خود سرچ کرکے اس کے برے اثرات دیکھ سکتے ہیں…

بہت احتیاط کریں اور اپنے گھر والوں کو بچوں کو خاص ہدایت کریں کہ کسی سے کوئی کاغذ کارڈ نہ پکڑیں…

اللّٰہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ثم آمین.
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ یہ تحریر صدقہ جاریہ ہے ، شیئر کرکے باقی احباب تک پہنچائیے ، شکریہ, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو

حیات و خدمات حافظ خادم حسین رضوی

.
معلومات شخصیت
پیدائش
22 مئی 1966
نکہ کلاں، پنڈی گھیب
وفات
19 نومبر 2020 (54 سال)[2]
لاہور
مدفن
لاہور
رہائش
لاہور
شہریت
پاکستان
جماعت
تحریک لبیک پاکستان
اولاد
حافظ سعد حسین رضوی، حافظ انس حسین رضوی
مناصب
صدر نشین (1st )
برسر عہدہ
2016 – 19 نومبر 2020
تحریک لبیک پاکستان
حافظ سعد حسین رضوی
عملی زندگی
مادر علمی
جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
تعلیمی اسناد
درس نظامی
پیشہ
سیاست دان، فاضل
مادری زبان

پیشہ ورانہ زبان
پنجابی، اردو، عربی، فارسی
تحریک
تحریک ختم نبوت، تحریک لبیک پاکستان

پیدائش
خادم حسین رضوی 3 ربیع الاول، 1386ھ بمطابق 22 جون، 1966ء کو “نکہ توت” ضلع اٹک میں حاجی لعل خان اعوان کے ہاں پیدا ہوئے۔

تعلیم و تربیت
خادم حسین رضوی نے ابتدائی تعلیم میں چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں نکا کلاں کے اسکول سے حاصل کی کی۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے ضلع جہلم چلے گئے اس وقت ان کی عمر بمشکل آٹھ سال ہی تھی اور یہ 1974 کی بات ہے۔ جب خادم حسین اکیلے جہلم پہنچے تو اس وقت تحریک ختم نبوت اپنے عروج پر تھی اور اس کی وجہ سے جلسے جلوس اور پکڑ دھکڑ کا عمل چل رہا تھا۔ جہلم میں علامہ صاحب کے گاؤں کے استاد حافظ غلام محمد موجود تھے جنھوں نے انہیں جامعہ غوثیہ اشاعت العلوم عید گاہ لے گئے۔ یہ مدرسہ قاضی غلام محمود کا تھا جو پیر مہر علی شاہ کے مرید خاص تھے۔ وہ خود خطیب و امام تھے اس لیے مدرسہ کے منتظم ان کے بیٹے قاضی حبیب الرحمن تھے۔ مدرسہ میں حفظ قرآن مجید کے لیے استاد قاری غلام یسین تھے جن کا تعلق ضلع گجرات سے تھا اور وہ آنکھوں کی بینائی سے محروم تھے۔ خادم حسین نے قرآن مجید کے ابتدائی بارہ سپارے جامع غوثیہ اشاعت العلوم میں حفظ کیے اور اس سے آگے کے اٹھارہ سپارے مشین محلہ نمبر 1 کے دار العلوم میں حفظ کیے۔ اس کی وجہ کچھ یوں بنی کہ مدرسہ میں موجود نکا کلاں کے ایک طالب علم گل محمد نے کسی بات پر باورچی کو مارا تھا اور باورچی کو اچھی خاصی چوٹیں آئیں۔ اس وجہ سے گل محمد کو مدرسہ سے نکال دیا گیا جس کی وجہ سے نکا کلاں کے استاد حافظ غلام محمد نے اپنے لائے تمام طلبہ جن کی تعداد اکیس تھی نکال کر مشین محلہ نمبر 1 پر واقع دار العلوم میں داخلہ دلا دیا جن میں خادم حسین بھی شامل تھے۔ آپ کو قرآن پاک حفظ کرنے میں چار سال کا عرصہ لگا۔ جب آپ کی عمر بارہ برس ہوئی تو دینیہ ضلع گجرات چلے گئے اور وہاں دو سال قرأت کی تعلیم حاصل کی۔ قرأت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1980ء میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور چلے گئے۔
وہاں آپ نے شہرہ آفاق دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ لاہور میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی۔
لاہور مدرسہ میں آٹھ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1988ء میں فارغ التحصیل ہو گئے تھے۔ قرآن پاک حفظ کرنے کے علاوہ درس نظامی اور احادیث پڑھیں۔



۔ابتدائی تعلیم اپنے گائوں سے حاصل کی۔ 1974ء میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے گھر چھوڑا اور جامع مسجد عید گاہ جہلم میں داخلہ لیا۔وہاں حافظ غلام یٰسین آپ کے استاد تھے۔1978 میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔حفظ و تجوید کے بعد درسِ نظامی پڑھنے کے لیے جامع مسجد وزیر خان لاہور میں قاری منظور حسین کے پاس آ گئے۔انھوں نے آپ کو جامعہ نظامیہ لاہور میں داخل کرا دیا۔وہاں آپ کو درج ذیل اساتذہ سے تعلیم حاصل کی:

1۔مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی:(ترمذی شریف)

2۔مفتی محمد عبداللطیف نقش بندی:(مسلم شریف،ابو دائود شریف)

3۔علامہ محمد رشید نقش بندی:(کنزالدقائق،قصیدہ بردہ شریف)

4۔علامہ عبدالحکیم شرف قادری:(بخاری شریف)

5۔علامہ حافظ عبدالستار سعیدی

6۔علامہ محمد صدیق ہزاروی

1988ء میں دورۂ حدیث مکمل ہوا اور دستارِ فضیلت عطا کی گئی۔

عملی زندگی
حافظ خادم حسین نے پہلی ملازمت 1993ء میں محکمہ اوقاف پنجاب میں کی۔ اس سلسلے میں آپ داتا دربا لاہور کے نزدیک واقع پیر مکی مسجد میں خطیب تھے۔ جب محکمہ اوقاف کی ملازمت ترک کی تو اس وقت آپ کی تنخواہ بیس ہزار ماہانہ تھی۔ جو اب ختم ہو چکی ہے۔ پھر یتیم خانہ لاہور روڈ کے قریب واقع مسجد رحمت اللعالمین میں خطیب رہے جہاں سے پندرہ ہزار ماہانہ مشاہرہ ملتا تھا۔

1990 ء میں جامعہ نظامیہ میں” علمِ صرف “کا درس دینا شروع کیا۔1993ء میں محکمۂ اوقاف لاہور کی طرف سے دربار سائیں کانواں والے ،گجرات میں خطابت و امامت کے لیے آپ کا تقرر ہوا۔بعد ازآں دربار حضرت شاہ ابوالمعالی کی مسجد میں تبادلہ ہوا۔وہاں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے چار ماہ کے لیے معطل کر دیے گئے۔اس کے بعد بحال ہو کر پیر مکی صاحب لاہور کی مسجد میں فرائض انجام دینے لگے لیکن حکومتی پالیسیاں حسب معمول ان کا ہدف تھیں ،خاص طور پر ممتاز قادری کے حوالے سے ان کا مئوقف حکومت کے برعکس تھاجس کا اظہار وہ سرکاری پلیٹ فارم پر کرتے تھے۔نتیجے کے طور پر ملازمت کا یہ سلسلہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور محکمۂ اوقاف نے انھیں ملازمت سے فارغ کر دیا۔ ۔”ممتاز قادری رہائی تحریک”کے محرک اور سرپرست اعلیٰ رہے۔”تحریک فدائیان ختم نبوت” کے امیر رہے۔ان کا سیاست میں آنے کا سبب ممتاز قادری کی سزائے موت ہے۔ممتاز قادری کی سزا کے بعد “تحریک لبیک یا رسول اللہ”کے سرپرست اعلیٰ رہے ؛بعد ازآں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی سے اختلاف کی وجہ سے اپنی الگ تحریک”تحریک لبیک پاکستان”بنا لی۔ انھوں نے بہت جلد اپنے سخت بیانات سے قدامت پسند طبقے میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ان پر 2016ء میں توہین مذہب کے قانون کے حق میں ریلی نکالنے پر لاٹھی جارج کیا گیا اور انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔2017 میں این اے 120 لاہور کے ضمنی انتخاب میں پہلی بار سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئے اورسات ہزار ووٹ حاصل کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔این اے 4،پشاور کے ضمنی الیکشن میںتقریبا دس ہزار ووٹ حاصل کیے۔لودھراں کے الیکشن میں بھی ان کی تنظیم کو گیار ہزار کے قریب ووٹ پڑے۔2017ء میں نواز شریف حکومت نے ایک پارلیمانی بل میں حکومت کی طرف سے قانون ختم نبوت کی ایک شق میں الفاظ بدل دیے؛جس پر ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہوئی ،خادم حسین رضوی نے بیانات کی بجائے عملی قدم اٹھایا اور اور نومبر 2017ء میں فیض آباد انٹرچینج پر کئی دن دھرنا دیا؛جس کی وجہ سے وزیرقانون زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑا۔اس وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنے۔2018ء میں جب ہالینڈ نے حضورﷺ کے خاکوں کی نمائش کی گستاخی کی تو آپ نے دوبارہ لاہور تا اسلام آباد مارچ کیا اور دھرنا دیا ۔

آسیہ نام کی ایک عورت پرتوہین رسالت کا الزام لگایا گیا ،ہائی کورٹ نے اسے موت کی سزا سنائی لیکن سپریم کورٹ میں اسے رہائی مل گئی۔ جس پر خادم حسین رضوی کا شدید ردِ عمل سامنے آیا۔تحریک لبیک کے کارکنوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔؛جس کے نتیجے میں خادم حسین رضوی اور ان کی تنظیم کے عہدہ داروں اور معاونین کو گرفتار کر لیا گیا۔ خادم حسین رضوی دہشت گردی کے الزام میں لاہور پولیس کی حراست رہے۔مئی 2019ء کو ضمانت پر رہائی ملی۔پنجابی ان کی مادری زبان ہے تاہم انھیں فارسی پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔شاعری سے بھی لگائوتھا۔خود کو کلام اقبال کا حافظ کہتے تھے، وفات سے چند دن پہلے فیض آباد پر پھر دھرنا دیا،اس بار ان کا مطالبہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالنا تھا کیونکہ فرانس کے صدر نے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کی تھی۔





بیعت و خلافت
روحانی طور پر خادم حسین سلسلہ نقشبندیہ میں خواجہ محمد عبد الواحد لمعروف حاجی پیر صاحب کالا دیو، جہلم سے مرید تھے۔

سر پرست و نگران
خادم حسین رضوی دو عشروں سے جامعہ نظامیہ رضویہ میں تدریس کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ فدایان ختم نبوت پاکستان اور مجلس علما نظامیہ کے مرکزی امیر رہے۔ دار العلوم انجمن نعمانیہ سمیت کئی مدارس، تنظیمات اور اداروں کے سر پرست و نگران رہے۔

معذوری
2009 میں پیش آنے والے ایک حادثے میں وہ معذور ہو گئے اور وہیل چیئر تک محدود ہو گئے تھے ، جس کی کچھ تفصیلات اب سامنے آ گئی ہیں ۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مولانا خادم حسین رضوی کے بڑے بھائی امیر حسین رضوی گاﺅں میں مسجد تعمیر کروا رہے تھے تو وہ اس سلسلے میں 2009 میں اپنے گاﺅں جانے کے لیے سفر پر روانہ ہوئے ، راستے میں ایک ڈرائیور کو نیند آ گئی اور ایک موڑ سے گاڑی نیچے جا گری ، اس حادثے میں مولانا خادم حسین رضوی کے سر اور مغز میں شدید چوٹیں آئیں جس کے باعث ان کے جسم کا نچلا حصہ معذور ہو گیا ۔



ازواج و اولاد
خادم حسین رضوی کی شادی اپنے چچا کی بیٹی سے ہوئی جو آپ کے والد لعل خان نے رشتہ پسند کیا تھا۔ 1993ء میں محکمہ اوقاف میں خطیب کی ملازمت کے بعد یہ شادی ہوئی۔

اولاد
حافظ خادم حسین رضوی کی اولاد میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ بیٹوں کے نام یہ ہیں۔

حافظ محمد سعد حسین
حافظ محمد انس
دونوں بیٹے حافظ قرآن ہیں اور درس نظامی کا کورس کر رہے ہیں۔

سیاست
تحریک لبیک پاکستان (انتخابی نشان کرین)
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ایک سیاسی تنظیم ہے جو تحریک لبیک یا رسول اللہ نامی جماعت کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی زیر قیادت قائم ہوئی ہے۔ 26 جولائی 2017ء کو الیکشن کمیشن پاکستان میں رجسٹر ہوئی اور کرین نشان الاٹ ہوا۔

خادم حسین رضوی کی جماعت، تحریک لبیک پاکستان نے 2018ء کے عام انتخابات میں بھی حصہ لیا اور سندھ اسمبلی سے دو نشستیں حاصل کیں اور مجموعی طور پر پورے ملک سے 22 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔

اس قطعہ میں اضافہ درکار ہے۔
تنازعات
ان کا سیاست میں آنے کا سبب ممتاز قادری کی سزائے موت کو مانا جاتا ہے، انھوں نے بہت جلد اپنے سخت بیانات سے قدامت پسند طبقے میں اپنی جگہ بنائی۔ ان پر 2016ء میں توہین مذہب کے قانون کے حق میں ریلی نکالنے پر لاٹھی جارج کیا گیا اور انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ انہیں پنجاب حکومت نے فورتھ شیڈول میں رکھا ہوا تھا جس کا مطلب ہے کہ انہیں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کا آگاہ رکھنا ہوتا تھا۔

2017ء میں ایک پارلیمانی بل میں حکومت کی طرف سے قانون ختم نبوت کی ایک شق میں الفاظ بدلنے پر، انھوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور نومبر 2017ء میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دے دیا۔ 25 نومبر کی صبح وفاقی پولیس اور رینجر نے ایک ناکام آپریشن کیا، جس میں کئی افراد زخمی ہوئے، پولیس نے 12 ہزار آنسو گیس کے شل پھینکے اور 8 لوگ شہید بھی ہوئے۔ واقعے کے بعد ملک گیر احتجاج شروع ہو گيا۔ اور 25 نومبر کو وزیر داخلہ نے فوج سے مدد طلب کر لی۔ خادم حسین پر عوامی مقامات پر مخالفین کو گالیاں دینے کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن خادم حسین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے الفاظ اللہ تعالیٰ نے بھی قران میں بیان فرمائے ہیں۔﴿﴿حوالہ درکار﴾﴾

تصنیفات
تیسیر ابواب الصرف
تعلیلات خادمیہ
وفات
19 نومبر 2020ء، بروز جمعرات بوجہ علالت بعمر 54 سال لاہور میں وفات پائی۔ 21 نومبر 2020ء بروز ہفتہ کو صبح 10 بجے نماز جنازہ گراؤنڈ مینار پاکستان میں ادا کی گئی، جس میں دنیا کے کئی ممالک سےلاکھوں مسلمانوں نے شرکت کی۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ قرار پایا.

جنازہ صاحبزادے سعد حسین رضوی نے پڑھایا، لاہور کی مسجد رحمت للعالمین سے ملحق مدرسہ ابوذرغفاری میں سپرد خاک ہوئے،

خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی 18 رکنی شوری نے ان کے بیٹے سعد حسین رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا۔

چہلم
تحریک لبیک پاکستان کے مرحوم سربراہ مولانا خادم حسین رضوی کی رسم چہلم اور قرآن خوانی لاہور میں ان کی مسجد رحمۃ اللعالمینؐ کے مقام پر ادا کی گئی جس میں ملک بھر سے جید علما کرام، مشائخ عظام اورکارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مرحوم سربراہ خادم حسین رضوی کی روح کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور درود و سلام کے ہدیے بھی پیش کیے گئے۔ شہزادہ غوث اعظم ملک شام سے پاکستان تشریف لائے اور خصوصی شرکت کی ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب بھی کیا۔ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد بن خادم حسین رضوی نے کہا ہے اپنے والد کا مشن ہر صورت آگے بڑھاوں گا۔ ناموس رسالت کی ایک جنگ چھڑ چکی ہے۔ اگر کسی کو غلط فہمی ہے تو پھر دور کر لے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے والدقائد تحریک لبیک پاکستان خادم حسین رضوی مرحوم کے چہلم کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔ چہلم میں علامہ حافظ عبدالستاری سعیدی،سید ظہیر الحسن شاہ بخاری، غلام غوث بغدادی، علامہ مفتی رضی حسینی ،ڈاکٹر محمد شفیق امینی،علامہ غلام عباس فیضی، علامہ مفتی رضی حسینی،سید عنایت الحق شاہ ،علامہ فاروق الحسن،اوریا مقبول جان،علامہ مفتی وزیر رضوی سمیت ملک بھر سے جید علما کرام شرکت و خطاب کیا۔چہلم میں شام سے نور الدین زنگی کے مزار شریف سے آئے مہمان مولانا عبدالعزیز نے سعد رضوی کو مزار شریف کی چادر پہنائی۔ انہوں نے کہاکہ اہل شام آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے۔ سعد رضوی کے ہاتھ پر اہل شام بیت کرتے ہیں ہم سب آپ کے پیچھے ہیں۔ختم چہلم سے خطاب کرتے ہوئے علامہ خادم حسین رضوی کے استاد حافظ عبدالستار سعیدی نے کہا کہ عالم کا دنیا سے چلے جانا سارے جہاں کی موت ہے۔ لبیک یارسولؐ کا نعرہ حضرت محمدؐ کے دور کا ہے۔ امیر المجاہدین خادم حسین رضوی نے شیرخوار بچہ میں بھی لبیک یارسول اللہ کا نعرہ لگانے کی کیفیت بھر دی ہے۔ 45 سال ہو گئے پڑھاتے ہوئے مجھے خادم حسین رضوی کا استاد ہونے پر فخر ہے۔ تحریک لبیک آزاد کشمیر کے امیرمولانا عبدالغفور نے کہا کہ جنازہ بڑا کرنے کے لیے ناموس رسالت پر پہرہ دینا پڑتا ہے۔ قائد ملت نے سینہ تان کر قادیانیوں کو خبردار کر دیا، تاجدار ختم نبوت کا نعرہ بلند کیا۔

حوالہ جات
چہلم روزنامہ نوائے وقت Jan 04, 2021 (1)مولانا محمد اسلم رضوی،تذکرہ علما اہلِ سنت ضلع اٹک،اسلامک میڈیا سنٹر ،لاہور،مارچ 2019، ص 68*حیات و خدمات حافظ خادم حسین رضوی*

معلومات شخصیت
پیدائش
22 مئی 1966
نکہ کلاں، پنڈی گھیب
وفات
19 نومبر 2020 (54 سال)[2]
لاہور
مدفن
لاہور
رہائش
لاہور
شہریت
پاکستان
جماعت
تحریک لبیک پاکستان
اولاد
حافظ سعد حسین رضوی، حافظ انس حسین رضوی
مناصب
صدر نشین (1st )
برسر عہدہ
2016 – 19 نومبر 2020
تحریک لبیک پاکستان
حافظ سعد حسین رضوی
عملی زندگی
مادر علمی
جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
تعلیمی اسناد
درس نظامی
پیشہ
سیاست دان، فاضل
مادری زبان

پیشہ ورانہ زبان
پنجابی، اردو، عربی، فارسی
تحریک
تحریک ختم نبوت، تحریک لبیک پاکستان

پیدائش
خادم حسین رضوی 3 ربیع الاول، 1386ھ بمطابق 22 جون، 1966ء کو “نکہ توت” ضلع اٹک میں حاجی لعل خان اعوان کے ہاں پیدا ہوئے۔

تعلیم و تربیت
خادم حسین رضوی نے ابتدائی تعلیم میں چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں نکا کلاں کے اسکول سے حاصل کی کی۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے ضلع جہلم چلے گئے اس وقت ان کی عمر بمشکل آٹھ سال ہی تھی اور یہ 1974 کی بات ہے۔ جب خادم حسین اکیلے جہلم پہنچے تو اس وقت تحریک ختم نبوت اپنے عروج پر تھی اور اس کی وجہ سے جلسے جلوس اور پکڑ دھکڑ کا عمل چل رہا تھا۔ جہلم میں علامہ صاحب کے گاؤں کے استاد حافظ غلام محمد موجود تھے جنھوں نے انہیں جامعہ غوثیہ اشاعت العلوم عید گاہ لے گئے۔ یہ مدرسہ قاضی غلام محمود کا تھا جو پیر مہر علی شاہ کے مرید خاص تھے۔ وہ خود خطیب و امام تھے اس لیے مدرسہ کے منتظم ان کے بیٹے قاضی حبیب الرحمن تھے۔ مدرسہ میں حفظ قرآن مجید کے لیے استاد قاری غلام یسین تھے جن کا تعلق ضلع گجرات سے تھا اور وہ آنکھوں کی بینائی سے محروم تھے۔ خادم حسین نے قرآن مجید کے ابتدائی بارہ سپارے جامع غوثیہ اشاعت العلوم میں حفظ کیے اور اس سے آگے کے اٹھارہ سپارے مشین محلہ نمبر 1 کے دار العلوم میں حفظ کیے۔ اس کی وجہ کچھ یوں بنی کہ مدرسہ میں موجود نکا کلاں کے ایک طالب علم گل محمد نے کسی بات پر باورچی کو مارا تھا اور باورچی کو اچھی خاصی چوٹیں آئیں۔ اس وجہ سے گل محمد کو مدرسہ سے نکال دیا گیا جس کی وجہ سے نکا کلاں کے استاد حافظ غلام محمد نے اپنے لائے تمام طلبہ جن کی تعداد اکیس تھی نکال کر مشین محلہ نمبر 1 پر واقع دار العلوم میں داخلہ دلا دیا جن میں خادم حسین بھی شامل تھے۔ آپ کو قرآن پاک حفظ کرنے میں چار سال کا عرصہ لگا۔ جب آپ کی عمر بارہ برس ہوئی تو دینیہ ضلع گجرات چلے گئے اور وہاں دو سال قرأت کی تعلیم حاصل کی۔ قرأت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1980ء میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور چلے گئے۔
وہاں آپ نے شہرہ آفاق دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ لاہور میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی۔
لاہور مدرسہ میں آٹھ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1988ء میں فارغ التحصیل ہو گئے تھے۔ قرآن پاک حفظ کرنے کے علاوہ درس نظامی اور احادیث پڑھیں۔



۔ابتدائی تعلیم اپنے گائوں سے حاصل کی۔ 1974ء میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے گھر چھوڑا اور جامع مسجد عید گاہ جہلم میں داخلہ لیا۔وہاں حافظ غلام یٰسین آپ کے استاد تھے۔1978 میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔حفظ و تجوید کے بعد درسِ نظامی پڑھنے کے لیے جامع مسجد وزیر خان لاہور میں قاری منظور حسین کے پاس آ گئے۔انھوں نے آپ کو جامعہ نظامیہ لاہور میں داخل کرا دیا۔وہاں آپ کو درج ذیل اساتذہ سے تعلیم حاصل کی:

1۔مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی:(ترمذی شریف)

2۔مفتی محمد عبداللطیف نقش بندی:(مسلم شریف،ابو دائود شریف)

3۔علامہ محمد رشید نقش بندی:(کنزالدقائق،قصیدہ بردہ شریف)

4۔علامہ عبدالحکیم شرف قادری:(بخاری شریف)

5۔علامہ حافظ عبدالستار سعیدی

6۔علامہ محمد صدیق ہزاروی

1988ء میں دورۂ حدیث مکمل ہوا اور دستارِ فضیلت عطا کی گئی۔

عملی زندگی
حافظ خادم حسین نے پہلی ملازمت 1993ء میں محکمہ اوقاف پنجاب میں کی۔ اس سلسلے میں آپ داتا دربا لاہور کے نزدیک واقع پیر مکی مسجد میں خطیب تھے۔ جب محکمہ اوقاف کی ملازمت ترک کی تو اس وقت آپ کی تنخواہ بیس ہزار ماہانہ تھی۔ جو اب ختم ہو چکی ہے۔ پھر یتیم خانہ لاہور روڈ کے قریب واقع مسجد رحمت اللعالمین میں خطیب رہے جہاں سے پندرہ ہزار ماہانہ مشاہرہ ملتا تھا۔

1990 ء میں جامعہ نظامیہ میں” علمِ صرف “کا درس دینا شروع کیا۔1993ء میں محکمۂ اوقاف لاہور کی طرف سے دربار سائیں کانواں والے ،گجرات میں خطابت و امامت کے لیے آپ کا تقرر ہوا۔بعد ازآں دربار حضرت شاہ ابوالمعالی کی مسجد میں تبادلہ ہوا۔وہاں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے چار ماہ کے لیے معطل کر دیے گئے۔اس کے بعد بحال ہو کر پیر مکی صاحب لاہور کی مسجد میں فرائض انجام دینے لگے لیکن حکومتی پالیسیاں حسب معمول ان کا ہدف تھیں ،خاص طور پر ممتاز قادری کے حوالے سے ان کا مئوقف حکومت کے برعکس تھاجس کا اظہار وہ سرکاری پلیٹ فارم پر کرتے تھے۔نتیجے کے طور پر ملازمت کا یہ سلسلہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور محکمۂ اوقاف نے انھیں ملازمت سے فارغ کر دیا۔ ۔”ممتاز قادری رہائی تحریک”کے محرک اور سرپرست اعلیٰ رہے۔”تحریک فدائیان ختم نبوت” کے امیر رہے۔ان کا سیاست میں آنے کا سبب ممتاز قادری کی سزائے موت ہے۔ممتاز قادری کی سزا کے بعد “تحریک لبیک یا رسول اللہ”کے سرپرست اعلیٰ رہے ؛بعد ازآں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی سے اختلاف کی وجہ سے اپنی الگ تحریک”تحریک لبیک پاکستان”بنا لی۔ انھوں نے بہت جلد اپنے سخت بیانات سے قدامت پسند طبقے میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ان پر 2016ء میں توہین مذہب کے قانون کے حق میں ریلی نکالنے پر لاٹھی جارج کیا گیا اور انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔2017 میں این اے 120 لاہور کے ضمنی انتخاب میں پہلی بار سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئے اورسات ہزار ووٹ حاصل کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔این اے 4،پشاور کے ضمنی الیکشن میںتقریبا دس ہزار ووٹ حاصل کیے۔لودھراں کے الیکشن میں بھی ان کی تنظیم کو گیار ہزار کے قریب ووٹ پڑے۔2017ء میں نواز شریف حکومت نے ایک پارلیمانی بل میں حکومت کی طرف سے قانون ختم نبوت کی ایک شق میں الفاظ بدل دیے؛جس پر ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہوئی ،خادم حسین رضوی نے بیانات کی بجائے عملی قدم اٹھایا اور اور نومبر 2017ء میں فیض آباد انٹرچینج پر کئی دن دھرنا دیا؛جس کی وجہ سے وزیرقانون زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑا۔اس وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنے۔2018ء میں جب ہالینڈ نے حضورﷺ کے خاکوں کی نمائش کی گستاخی کی تو آپ نے دوبارہ لاہور تا اسلام آباد مارچ کیا اور دھرنا دیا ۔

آسیہ نام کی ایک عورت پرتوہین رسالت کا الزام لگایا گیا ،ہائی کورٹ نے اسے موت کی سزا سنائی لیکن سپریم کورٹ میں اسے رہائی مل گئی۔ جس پر خادم حسین رضوی کا شدید ردِ عمل سامنے آیا۔تحریک لبیک کے کارکنوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔؛جس کے نتیجے میں خادم حسین رضوی اور ان کی تنظیم کے عہدہ داروں اور معاونین کو گرفتار کر لیا گیا۔ خادم حسین رضوی دہشت گردی کے الزام میں لاہور پولیس کی حراست رہے۔مئی 2019ء کو ضمانت پر رہائی ملی۔پنجابی ان کی مادری زبان ہے تاہم انھیں فارسی پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔شاعری سے بھی لگائوتھا۔خود کو کلام اقبال کا حافظ کہتے تھے، وفات سے چند دن پہلے فیض آباد پر پھر دھرنا دیا،اس بار ان کا مطالبہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالنا تھا کیونکہ فرانس کے صدر نے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کی تھی۔





بیعت و خلافت
روحانی طور پر خادم حسین سلسلہ نقشبندیہ میں خواجہ محمد عبد الواحد لمعروف حاجی پیر صاحب کالا دیو، جہلم سے مرید تھے۔

سر پرست و نگران
خادم حسین رضوی دو عشروں سے جامعہ نظامیہ رضویہ میں تدریس کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ فدایان ختم نبوت پاکستان اور مجلس علما نظامیہ کے مرکزی امیر رہے۔ دار العلوم انجمن نعمانیہ سمیت کئی مدارس، تنظیمات اور اداروں کے سر پرست و نگران رہے۔

معذوری
2009 میں پیش آنے والے ایک حادثے میں وہ معذور ہو گئے اور وہیل چیئر تک محدود ہو گئے تھے ، جس کی کچھ تفصیلات اب سامنے آ گئی ہیں ۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مولانا خادم حسین رضوی کے بڑے بھائی امیر حسین رضوی گاﺅں میں مسجد تعمیر کروا رہے تھے تو وہ اس سلسلے میں 2009 میں اپنے گاﺅں جانے کے لیے سفر پر روانہ ہوئے ، راستے میں ایک ڈرائیور کو نیند آ گئی اور ایک موڑ سے گاڑی نیچے جا گری ، اس حادثے میں مولانا خادم حسین رضوی کے سر اور مغز میں شدید چوٹیں آئیں جس کے باعث ان کے جسم کا نچلا حصہ معذور ہو گیا ۔



ازواج و اولاد
خادم حسین رضوی کی شادی اپنے چچا کی بیٹی سے ہوئی جو آپ کے والد لعل خان نے رشتہ پسند کیا تھا۔ 1993ء میں محکمہ اوقاف میں خطیب کی ملازمت کے بعد یہ شادی ہوئی۔

اولاد
حافظ خادم حسین رضوی کی اولاد میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ بیٹوں کے نام یہ ہیں۔

حافظ محمد سعد حسین
حافظ محمد انس
دونوں بیٹے حافظ قرآن ہیں اور درس نظامی کا کورس کر رہے ہیں۔

سیاست
تحریک لبیک پاکستان (انتخابی نشان کرین)
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ایک سیاسی تنظیم ہے جو تحریک لبیک یا رسول اللہ نامی جماعت کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی زیر قیادت قائم ہوئی ہے۔ 26 جولائی 2017ء کو الیکشن کمیشن پاکستان میں رجسٹر ہوئی اور کرین نشان الاٹ ہوا۔

خادم حسین رضوی کی جماعت، تحریک لبیک پاکستان نے 2018ء کے عام انتخابات میں بھی حصہ لیا اور سندھ اسمبلی سے دو نشستیں حاصل کیں اور مجموعی طور پر پورے ملک سے 22 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔

اس قطعہ میں اضافہ درکار ہے۔
تنازعات
ان کا سیاست میں آنے کا سبب ممتاز قادری کی سزائے موت کو مانا جاتا ہے، انھوں نے بہت جلد اپنے سخت بیانات سے قدامت پسند طبقے میں اپنی جگہ بنائی۔ ان پر 2016ء میں توہین مذہب کے قانون کے حق میں ریلی نکالنے پر لاٹھی جارج کیا گیا اور انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ انہیں پنجاب حکومت نے فورتھ شیڈول میں رکھا ہوا تھا جس کا مطلب ہے کہ انہیں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کا آگاہ رکھنا ہوتا تھا۔

2017ء میں ایک پارلیمانی بل میں حکومت کی طرف سے قانون ختم نبوت کی ایک شق میں الفاظ بدلنے پر، انھوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور نومبر 2017ء میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دے دیا۔ 25 نومبر کی صبح وفاقی پولیس اور رینجر نے ایک ناکام آپریشن کیا، جس میں کئی افراد زخمی ہوئے، پولیس نے 12 ہزار آنسو گیس کے شل پھینکے اور 8 لوگ شہید بھی ہوئے۔ واقعے کے بعد ملک گیر احتجاج شروع ہو گيا۔ اور 25 نومبر کو وزیر داخلہ نے فوج سے مدد طلب کر لی۔ خادم حسین پر عوامی مقامات پر مخالفین کو گالیاں دینے کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن خادم حسین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے الفاظ اللہ تعالیٰ نے بھی قران میں بیان فرمائے ہیں۔﴿﴿حوالہ درکار﴾﴾

تصنیفات
تیسیر ابواب الصرف
تعلیلات خادمیہ
وفات
19 نومبر 2020ء، بروز جمعرات بوجہ علالت بعمر 54 سال لاہور میں وفات پائی۔ 21 نومبر 2020ء بروز ہفتہ کو صبح 10 بجے نماز جنازہ گراؤنڈ مینار پاکستان میں ادا کی گئی، جس میں دنیا کے کئی ممالک سےلاکھوں مسلمانوں نے شرکت کی۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ قرار پایا.

جنازہ صاحبزادے سعد حسین رضوی نے پڑھایا، لاہور کی مسجد رحمت للعالمین سے ملحق مدرسہ ابوذرغفاری میں سپرد خاک ہوئے،

خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی 18 رکنی شوری نے ان کے بیٹے سعد حسین رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا۔

چہلم
تحریک لبیک پاکستان کے مرحوم سربراہ مولانا خادم حسین رضوی کی رسم چہلم اور قرآن خوانی لاہور میں ان کی مسجد رحمۃ اللعالمینؐ کے مقام پر ادا کی گئی جس میں ملک بھر سے جید علما کرام، مشائخ عظام اورکارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مرحوم سربراہ خادم حسین رضوی کی روح کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور درود و سلام کے ہدیے بھی پیش کیے گئے۔ شہزادہ غوث اعظم ملک شام سے پاکستان تشریف لائے اور خصوصی شرکت کی ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب بھی کیا۔ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد بن خادم حسین رضوی نے کہا ہے اپنے والد کا مشن ہر صورت آگے بڑھاوں گا۔ ناموس رسالت کی ایک جنگ چھڑ چکی ہے۔ اگر کسی کو غلط فہمی ہے تو پھر دور کر لے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے والدقائد تحریک لبیک پاکستان خادم حسین رضوی مرحوم کے چہلم کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔ چہلم میں علامہ حافظ عبدالستاری سعیدی،سید ظہیر الحسن شاہ بخاری، غلام غوث بغدادی، علامہ مفتی رضی حسینی ،ڈاکٹر محمد شفیق امینی،علامہ غلام عباس فیضی، علامہ مفتی رضی حسینی،سید عنایت الحق شاہ ،علامہ فاروق الحسن،اوریا مقبول جان،علامہ مفتی وزیر رضوی سمیت ملک بھر سے جید علما کرام شرکت و خطاب کیا۔چہلم میں شام سے نور الدین زنگی کے مزار شریف سے آئے مہمان مولانا عبدالعزیز نے سعد رضوی کو مزار شریف کی چادر پہنائی۔ انہوں نے کہاکہ اہل شام آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے۔ سعد رضوی کے ہاتھ پر اہل شام بیت کرتے ہیں ہم سب آپ کے پیچھے ہیں۔ختم چہلم سے خطاب کرتے ہوئے علامہ خادم حسین رضوی کے استاد حافظ عبدالستار سعیدی نے کہا کہ عالم کا دنیا سے چلے جانا سارے جہاں کی موت ہے۔ لبیک یارسولؐ کا نعرہ حضرت محمدؐ کے دور کا ہے۔ امیر المجاہدین خادم حسین رضوی نے شیرخوار بچہ میں بھی لبیک یارسول اللہ کا نعرہ لگانے کی کیفیت بھر دی ہے۔ 45 سال ہو گئے پڑھاتے ہوئے مجھے خادم حسین رضوی کا استاد ہونے پر فخر ہے۔ تحریک لبیک آزاد کشمیر کے امیرمولانا عبدالغفور نے کہا کہ جنازہ بڑا کرنے کے لیے ناموس رسالت پر پہرہ دینا پڑتا ہے۔ قائد ملت نے سینہ تان کر قادیانیوں کو خبردار کر دیا، تاجدار ختم نبوت کا نعرہ بلند کیا۔

حوالہ جات
چہلم روزنامہ نوائے وقت Jan 04, 2021 (1)مولانا محمد اسلم رضوی،تذکرہ علما اہلِ سنت ضلع اٹک،اسلامک میڈیا سنٹر ،لاہور،مارچ 2019، ص 68

Alama Khadim Hussain Rizvi

پٹرول کی قیمتوں اور حالیہ مہنگائی پر شاندار تحریر

حکومت پاکستان اس وقت پٹرول پر لیوی اور سیلز ٹیکس کی مد میں 138 روپے میں سے صرف 14 روپے ٹوٹل ٹیکس وصول کررہی ہے جو کہ پاکستان کی ہسٹری میں پٹرول پر کم ترین ٹیکس ہے۔
عمران خان نے جب کہا تھا کہ پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو حکمران چور ہوتا ہے اس وقت پٹرول کی ٹوٹل اگر قیمت 100 روپے تھی تو اس پر لیوی اور سیلز ٹیکس 52 روپے اور 48 روپے پٹرول کی قیمت ہوتی تھی جو کہ اس وقت 124 روپے اور ٹیکس 14 روپے بنتا ہے۔
یعنی اس دور میں 52 فیصد ٹیکس اور اب تقریبا 8 فیصد ٹیکس۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ 2 غلط چیزوں کو آپس میں مکس اپ نہیں کرسکتے۔ یہ عالمی بحران ہے جس کا سامنا اس وقت پاکستان سمیت ساری دنیا کو ہے۔ بحران میں حکومت یہی کرتی ہے کہ ٹیکسز کو کم سے کم کردیتی ہے۔
پھر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پٹرول باہر سے آتا ہے تو باقی کھانے پینے کی چیزیں کیوں مہنگی ہیں، سوال یہ ہے کہ گندم، چاول وغیرہ کے سوا آپ کے ملک میں اگتا کیا ہے؟ بناسپتی گھی اور خوردنی تیل آپ باہر سے منگواتے ہو۔ پام آئل، سویا بین بناسپتی گھی اور خوردنی تیل بنتا ہے۔
صوبہ سندھ اس کی کاشت کے لیے موزوں علاقہ ہے لیکن آپ نے آج تک کبھی توجہ نہ دی۔ جس کا نتیجہ ہوا کہ آج وی پام آئل جو پچھلے سال 5 سو ڈالر فی میٹرک ٹن تھا آج 12 سو ڈالر فی میٹرک ٹن ہوچکا ہے۔۔راء میٹریل مہنگا ہوگا تو آپ کو آئل یا گھی سستا کیسے ملے گا؟؟
دالیں آپکے ملک میں پیدا نہیں ہوتی بلکہ باہر کے ملک سے منگواتے ہیں، گرم مصالحے، خشک دودھ، دہی، پنیر یہ چیزیں آپ باہر سے درآمد کرتے ہیں۔ اس کے بعد گھر کی فصلوں پر بات کرلیں۔

گندم ، مونجی، کپاس، یہ سب فصلیں پچھلے 10 سالوں میں پاکستان میں تباہ حال ہوئی جن کی مختلف وجوہات ہیں۔
ان میں سے ایک بڑی وجہ کسان کو اس کی فصل کا ریٹ کا نہ ملنا تھا۔ جس سے کسان فصل اگانے بند کرنے لگا اور ان فصلوں کی کاشت متاثر ہونے لگی۔

جس میں سب سے زیادہ کپاس متاثر ہوئی۔ 2018 کے بعد اس حکومت نے جہاں زراعت میں کام کیا وہیں ہر فصل کا ریٹ اچھا مقرر کیا۔
جس کا نتیجہ کسان خوشحال ہوا اور گندم، کپاس،مونجی کی پیدوار بڑھنے لگی۔ 2018 میں گندم کا ریٹ 1300 اور آج 1950/2000 ہے۔ گنے کا ریٹ 2018 میں 150 اور اب 300 روپے ہے۔۔مونجی 2017، 2018 میں 13 سو روپے ریٹ تھا پچھلے سال 2200 کے آس پاس ریٹ لگا۔
اس وقت DAP کھاد جس کا پاکستان میں ایک ہی پلانٹ ہے ایف ایف بی ایل میں۔ وہ پاکستان کی ڈیمانڈ پوری نہیں کرپارہا۔ جس کے بعد 2019 میں ایف ایف بی ایل نے ڈی اے پی کا نیا پلانٹ لگانے کا این او سی لیا اور پلانٹ شروع کیا۔ لیکن باقی کی ڈیمانڈ آج بھی DAP باہر سے درآمد کرکے پوری کرنی پڑتی ہے۔
اس ملک میں آج تک بنایا کیا جاتا ہے؟ جو چیز بنائی جاتی ہے اس کے بھی ریٹ اتنے کم کردو کہ وہ چیز بھی بننی بند ہوجائے۔اب یہ چیزیں اتنا پڑھ لکھ کر آپکو نہیں پتہ تو اس میں حکومت کاکیا قصور؟

یہ مہنگائی اس وقت حکومتی نااہلی اور نہ ہی گورننس کا مسئلہ ہے۔ یہ عالمی بحران کا نتیجہ ہے.
جس میں اوپیک نے تیل کی پروڈکشن کم کی ہوئی ہے جس سے آئل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بڑھتی جارہی ہیں۔اور اگر اوپیک نے پروڈکشن نہ بڑھائی تو یہ قیمت دسمبر میں 100 ڈالر فی بیرل پر پہنچ رہی ہے۔85 بیرل پر آلریڈی پہنچ چکی ہے۔

گاؤں میں چوری کی واردات کا ایک طریقہ

گاؤں میں چوری کی واردات کا ایک طریقہ چور اپناتے ہیں۔ وہ جس گھر کو ٹارگٹ بناتے ہیں اس گھر میں دو تین پتھر پھینکتے ہیں۔ ایسا وہ چوری کرنے سے پہلے دو تین راتیں کرتے ہیں۔ اگر گھر والوں کی طرف سے کوئی ری ایکشن ہو۔ مثلاً گھر والوں میں سے کوئی کہے کہ “باہر کون ہے؟” یا لائٹ آن ہو جائے یا کوئی چلتا پھرتا محسوس ہو تو چور اس گھر میں چوری کا ارادہ ملتوی کر دیتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ان کے چھوٹے چھوٹے پتھروں کے جواب میں کوئی رد عمل نہ ہو تو چور پوری تیاری کے ساتھ آتے ہیں اور گھر کا صفایا کر کے چلے جاتے ہیں۔
بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ختم نبوت کی شق ہٹانے نہ ہٹانے یا پھر معمولی الفاظ کی رد و بدل کو معمولی نہ سمجھیں۔ یہ وہ پتھر ہیں جس سے چور آپ کی بیداری کا اندازہ لگا رہا ہے۔ اور ایسا وہ ہر دو تین ماہ بعد کرتا ہے۔ اگر آپ جاگتے رہیں گے تو چور چوری نہیں کر پائے گا۔ بس پہرہ دینا ہے۔ اس لئے ختم نبوت پر کوئی مصلحت برداشت نہ کی جائے۔
قادیانی اور اس کے ساتھی کل بھی کافر تھے آج بھی کافر ہیں۔
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ یہ تحریر صدقہ جاریہ ہے ، شیئر کرکے باقی احباب تک پہنچائیے ، شکریہ, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو..
جزاک اللہ خیرا کثیرا
احقر العباد

حضرت ایوب کا صبر



حضرت ایوب کا تعلق امل روم سے تھا ۔ اللہ
تعالی نے انہیں اپنا رسول چن لیا تھا ۔ حضرت
ایوب نهایت صابر و شاکر اور عاجز انسان

تھے۔

اللہ تعالی عاجزی ، انکساری اور شکر گزاری کو
پسند فرماتے ہیں ۔ حضرت ایوب نہایت مالدار
شخص تھے ۔ اللہ تعالی نے انہیں دنیاوی مال
وزر کے ساتھ ساتھ اولادوں کی نعمت بھی عطا

فرمائی ۔

حضرت ایوب نهایت خداترس انسان تھےغریبوں کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے
تھے ۔ پھر اللہ تعالی کی طرف سے ان کی
آزمائش شروع ہوئی اور ان کے مال و اسباب
سب ختم ہو گئے ، ان کے بچے بھی اللہ کو

پیارے ہو گئے اور ان کا سارا جسم زخموں سے

بھر گیا۔
آپ اس پر بھی صابر و شاکر ر ہے اور شکایت
کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ لا ئے ۔ حضرت
ایوب کی بیماری بڑھتی چلی گئی تو آپ
کے ساتھی بھی آپ کا ساتھ چھوڑ گئے ۔ایسے مشکل وقت میں صرف آپ کی بیوی

نے آپ کا ساتھ دیا۔ جیسے جیے مصیبتیں

گئیں ۔ ان کے صبر اور شکر میں اضافہ ہوتا

گیا۔

آپ کی بیوی نے بار بار اصرار کیا کہ اسے اللہ
کے نبی اپنے رب سے شفا کے لیے دعا کھے
چنانچہ، یہ سن کر حضرت ایوب نے رو رو کر اللہ
سے دعا کی اور اللہ کے معجزے سے زمین سے
چشمہ پھوٹا اس پانی کے استعمال سے حضرت
ایوب بالکل تندرست و توانا ہو گئے ۔گئیں ۔ ان کے صبر اور شکر میں اضافہ ہو تا

کیا ۔

آپ کی بیوی نے بار بار اصرار کیا کہ اسے اللہ
کے نبی اپنے رب سے شفا کے لیے دعا کیجیے
چنانچہ یہ سن کر حضرت ایوب نے رو رو کر اللہ
سے دعا کی اور اللہ کے معجزے سے زمین سے
چشمہ پھوٹا اس پانی کے استعمال سے حضرت

ایوب بالکل تندرست و توانا ہو گئے ۔

اللہ نے آپ کو اور آپ کی بیوی کو جوانی بخشی
اور پہلے سے زیادہ خوشحال اور مال دار ہو گئے ۔

💐سلسلہ گلدستہ نعت رسول مقبولﷺ ⛺🌴

💐سلسلہ گلدستہ نعت رسول مقبولﷺ ⛺🌴 🌈 آج کی ایک بہت خوبصورت نعت شریف، اہلِ دل کو تڑپا دینے والے اشعار کے ساتھ، آپ دوستوں کی آنکھوں کے حوالے کرتا ہوں۔ 🛕نعت پاکﷺ سے پہلے ایک مرتبہ با آواز محبت میں ڈوب کر آقاﷺ پر درود کی سوغات پُہنچائیے۔🤲🏻 ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* حضور میری تو ساری […]

💐سلسلہ گلدستہ نعت رسول مقبولﷺ ⛺🌴

چور اور قاضی کا مکالمہ

چور اور قاضی کا مکالمہ
امام جوزی رحمہ اللہ نے قاضی انطاکیہ کا ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہےکہ وہ ایک دن اپنے کھیتوں کو دیکھنے شہر سے نکلے تو شہر کے باہر ایک چور نے دھر لیا۔چور نے کہا کہ جو کچھ ہے میرے حوالے کردیجئے ورنہ میری طرف سے سخت مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قاضی نے کہا : خدا تیرا بھلا کرے ۔ میں عالم آدمی ہوں اور دین میں اس کی عزت کا حکم دیا گیا ہے ساتھ میں قاضی شہر بھی ہوں لہذا مجھ پر رحم کر۔
چور نے کہا :الحمدللہ !ایسا شخص جو بیچارہ فقیر نادار ہو اور اپنا نقصان پورا نہ کرسکے کے بجائے آج ایک ایسے شخص کو اللہ نے میرے قابو میں دیا ہے کہ اگر اس کو میں لوٹ بھی لوں تو شہر واپس جاکر اپنا نقصان پورا کرسکتا ہے ۔
قاضی نے کہا :خدا کے بندے تو نےرسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث نہیں سنی کہ دین وہ ہے جسے اللہ نے مقرر کیا اور مخلوق سب اللہ کے بندے ہیں اور سنت وہی ہے جو میرا طریقہ ہے۔ پس جس نے میرا طریقہ چھوڑ کر کوئی بدعت ایجاد کی تو اس پر اللہ کی لعنت ۔
تو اے چور !ڈاکے ڈالنا اور لوگوں کو راستے میں لوٹنا یہ بدعت ہے نبی کریم ﷺ کا طریقہ اور دین نہیں ۔میں آپ کا خیر خواہ ہوں آپ کو چوری سے منع کرتا ہوں کہ مبادا نبی کریم ﷺ کی اس لعنت والی وعید میں آپ شامل نہ ہوجائیں ۔
چور نے کہا :میری جان! یہ حدیث مرسل ہے (جو شوافع کے ہاں حجت نہیں ) اور بالفرض اس حدیث کو درست بھی مان لیا جایئے تو آپ کا اس ’’چور‘‘ کے بارے میں کیا خیال ہے جو بالکل ’’قلاش‘‘ ہو فاقوں نے اس کے گھر میں ڈیرے ڈال دئے ہو ں اور ایک وقت کے کھانے کا بھی کوئی آسرا نہ ہو؟۔ایسی صورت میں ایسے شخص کیلئے آپ کا مال بالکل پاک و حلال ہے کیونکہ امام مالک رحمہ اللہ نے عبد اللہ ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمایا کہ دنیا اگر محض خون ہوتی تو مومن کا اس میں سے کھانا حلال ہوتا۔نیز علما کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر آدمی کو اپنے یا اپنے خاندان کے مارے جانے کا خوف ہو تو اس کیلئے دوسرے کا مال حلال ہے۔اور اللہ کی قسم میں اسی حالت سے گزررہا ہوں لہذا شرافت سے سارا مال میرے حوالے کردو۔
قاضی نے کہا :اچھا اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو مجھے اپنے کھیتوں میں جانے دو وہاں میرے غلام و خادم نے آج جو اناج بیچا ہوگا اس کا مال میں ان سے لیکر واپس آکر آپ کے حوالے کردیتا ہوں ۔
چور نے کہا :ہرگز نہیں آپ کی حالت اس وقت پرندے کی مانند ہے جو ایک دفعہ پنجرے سے نکل گیا پھر اسے پکڑنا مشکل ہے ۔مجھے یقین نہیں کہ ایک دفعہ میرے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد آپ دوبارہ واپس لوٹیں گے۔
قاضی نے کہا: میں آپ کو قسم دینے کو تیار ہوں کہ ان شاللہ میں نے جو وعدہ آپ سے کیا ہے اسے پورا کروں گا۔
چور نے کہا :مجھے حدیث بیان کی مالک رحمہ اللہ نے انہوں نے نافع رحمہ اللہ سے سنی انہوں نےعبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ :یمین المکرہ لاتلزم(مجبور کی قسم کا اعتبار نہیں)
اسی طرح قرآن میں بھی ہے الامن اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمان مجبور آدمی زبان سے کلمہ کفر بول سکتا ہے تو مجبوری کی حالت میں جب کلمہ کفر بولنے کی اجازت ہے تو جھوٹی قسم بھی کھائی جاسکتی ہے ۔لہذا فضول بحث سے پرہیز کریں اور جوکچھ ہے آپ کے پاس میرے حوالے کردیں۔
قاضی اس پر لاجواب ہوگیا اور اپنی سواری ،مال کپڑے سوائے شلوار کے اس کے حوالے کردیا۔
چور نے کہا:شلوار بھی اتار کر دیں۔
قاضی نے کہا :اللہ کے بندے نماز کا وقت ہوچکا ہے ۔اور بغیر کپڑوں کے نماز جائز نہیں۔ قرآن کریم میں بھی ہے خذو زینتکم عند کل مسجد (اعراف ،۳۱)اور اس آیت کا معنی تفاسیر میں یہی بیان کیاگیا ہے کہ نماز کے وقت کپڑے پہنے رکھو۔
نیز شلوار حوالے کرنے پر میری بے پردگی ہوگی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ وہ شخص ملعون ہے جو اپنے بھائی کے ستر کو دیکھے۔
چور نے کہا: اس کا آپ غم نہ کریں کیونکہ ننگے حالت میں آپ کی نماز بالکل درست ہے کہ مالک رحمہ اللہ نے ہم سے حدیث بیان کی وہ روایت کرتے ہیں نافع رحمہ اللہ سے وہ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ سے کہ
العراۃ یصلون قیاما و یقوم امامھم وسطہم
ننگے کھڑے ہوکر نماز پڑھیںاور ان کا امام بیچ میں کھڑاہو۔
نیز امام مالک رحمہ اللہ بھی ننگے کی نماز کے جواز کے قائل ہیں مگر ان کا فتوی یہ ہے کہ کھڑے ہوکر نہیں پڑھیں گے بلکہ متفرق متفرق پڑھیں گے اور اتنی دور دور پڑھیں گے کہ ایک دوسرے کے ستر پر نظر نہ پڑے۔جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا فتوی یہ ہے کہ کھڑے ہوکر نہیں بلکہ بیٹھ کر پڑھیں ۔
اور ستر پر نظر پڑنے والی جو روایت آپ نے سنائی اول تو وہ سندا درست نہیں اگر مان بھی لیں تو وہ حدیث اس پر محمول ہے کہ کسی کے ستر کو شہوت کی نگاہ سے دیکھاجائے۔ اور فی الوقت ایسی حالت نہیں اور آپ تو کسی صورت میں بھی گناہ گار نہیں کیونکہ آپ حالت اضطراری میں ہے خود بے پردہ نہیں ہورہے ہیں بلکہ میں آپ کو مجبور کررہا ہوں ۔لہذا لایعنی بحث مت کریں اور جو کہہ رہاہوں اس پر عمل کریں۔
قاضی نے یہ سن کر کہا کہ خدا کی قسم قاضی اور مفتی تو تجھے ہونا چاہئے ہم تو جھگ ماررہے ہیں ۔ جو کچھ تجھے چاہئے لے پکڑ لاحول ولاقوۃالاباللہ ۔اور یوں چور سب کچھ لیکر فرار ہوگیا۔

Malik Zohaib Ali

@zohaibalireal

Continue reading “چور اور قاضی کا مکالمہ”

*🍃طوطے کا پیغام 🍃* *حکایات رومی*


ایک سوداگر ہندوستان پہنچا اور دورانِ سفر جب اس کا گزر ایک جنگل سے ہوا اور اس کے کانوں میں طوطوں کی آواز آئی تو اسے اپنے پالتو طوطے کا پیغام یاد آیا۔

اس نے طوطوں کے سامنے جا کر اس کا پیغام سنا ڈالا۔ پیغام کا سننا تھا کہ ایک طوطا تھر تھرا تا ہوا نیچے گرا اور پھر بے جان ہو گیا۔ سوداگر بہت حیران ہوا اور اس واقعے سے یہی اخذ کیا کہ ضرور یہ طوطا میرے طوطے کا قریبی عزیز ہو گا جو اس کی قید کی خبر سن کر اس کی تاب نہ لا یا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ سوداگر کو بے حد افسوس ہوا۔

قصہ مختصر! جب سوداگر اپنے وطن واپس آیا تو اپنے سارے نوکروں کی فرمائش کردہ چیزیں اُن کے سپرد کر دیں جس پر وہ بہت خوش ہوئے۔

طوطے نے بھی پنجرے سے اپنے پیغام کا جواب طلب کیا۔ سوداگر کے چہرے پر غم کے سائے لہراگئے۔ اُس نے طوطے کو جواب نہ سننے کی تاکید کی لیکن طوطے کا اصرار بڑھتا گیا آخر سوداگر نے کہا: میں نے تیری حالت اور تیرا پیغام دونوں تیرے جنگل کے طوطوں کے سامنے گوش کیا۔

اُن میں سے ایک طوطا جو شاید تیرا قریبی عزیز تھا وہ نیچے گرا اور اُس نے پھڑ پھڑا کر اپنی جان دے دی۔ اتنا سننا تھا کہ قیدی طوطے کی بھی آنکھیں پتھرا گئیں۔ تھر تھری چھوٹ گئی اور وہ پنجرے کے اند ہی قلا بازی کھا کر بے جان ہو گیا۔

سوداگر نے جب اپنے سامنے اپنے پیارے طوطے کو یوں مرتے ہوئے دیکھا تو غم و اندوہ سے بدحواس ہوگیا۔ بار بار سینہ کوبی کرتا کہ میں نے یہ پیغام تجھے کیوں دے دیا؟ اب تیرے جیسا طوطی خوش بیاں کہاں سے لاؤں گا؟ ہائے میں نے کیا کردیا!

جب اُس نے خوب رو دھو کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لی تو مرے ہوئے طوطے کو نہایت پیار سے پنجرے سے نکالا اور دیوار کے باہر پھینک دیا۔ باہر پھینکنا تھا کہ فوراً وہ طوطا اُڑ کر سامنے والے درخت کی شاخ پر بیٹھ گیا۔ سوداگر ششدر رہ گیا۔ ایک ذرا سے طوطے نے اسے بے وقوف بنا کر رکھ دیا۔

وہ چلاکر بولا: “ اے چالاک و عیار طوطے یہ کیا قصہ ہے؟” طوطے نے جواب دیا “اے شخص! اگر سننا ہی چاہتا ہے تو سن اُس طوطے نے مجھے پیغام دیا تھا کہ تُو اپنی میٹھی بول چال ترک کر اور نغمہ سرائی بند کر۔ انہی اوصاف نے تجھے قیدی بنا دیا اور پھر خود بے جان ہو کر گرا تو مجھے یہ اشارہ دیا کہ تُو بھی خود کو بے جان ظاہر کر کے اس اسیری سے چھٹکارہ پا سکتا ہے۔

تیرا بہت شکریہ تُو نے میرا پیغام میرے ہم وطنوں کو دے کر اور مجھے اُن کا اشارہ بتا کر اس اندھی قید سے رہائی دلائی۔” سوداگر نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا: “ جا! خدا تیری حفاظت کرے جاتے جاتے بھی تو مجھے ایک نیا راستہ دکھا گیا۔” طوطا سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا آخر کار اپنے ہم جنسوں سے آملا اور آزادی کی نعمت سے لطف اندوز ہونے لگا۔

*میرے دوست!*
دراصل اس حکایت میں طوطے سے مراد نفس ہے۔ جب تک ہمارا نفس دلفریبیوں میں مبتلا رہتا ہےاپنی خواہشات کا قیدی رہتا ہے۔ جہاں یہ مردہ بن جاتا ہے تو ہمیں ان ذہنی آلائشوں سے نجات مل جاتی ہے۔ ہمارا نفس اُس پتھر کی مانند ہے جو بہار آنے پر بھی سرسبزو شاداب نہیں ہوتااس لیے خوُد کو بھول کر خاک ہو جا تا کہ تجھ سے نت نئے پھول اُگیں اور تُو زندگی کا اصل مقصد سمجھ سکے۔

Design a site like this with WordPress.com
Get started