پٹرول کی قیمتوں اور حالیہ مہنگائی پر شاندار تحریر

حکومت پاکستان اس وقت پٹرول پر لیوی اور سیلز ٹیکس کی مد میں 138 روپے میں سے صرف 14 روپے ٹوٹل ٹیکس وصول کررہی ہے جو کہ پاکستان کی ہسٹری میں پٹرول پر کم ترین ٹیکس ہے۔
عمران خان نے جب کہا تھا کہ پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو حکمران چور ہوتا ہے اس وقت پٹرول کی ٹوٹل اگر قیمت 100 روپے تھی تو اس پر لیوی اور سیلز ٹیکس 52 روپے اور 48 روپے پٹرول کی قیمت ہوتی تھی جو کہ اس وقت 124 روپے اور ٹیکس 14 روپے بنتا ہے۔
یعنی اس دور میں 52 فیصد ٹیکس اور اب تقریبا 8 فیصد ٹیکس۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ 2 غلط چیزوں کو آپس میں مکس اپ نہیں کرسکتے۔ یہ عالمی بحران ہے جس کا سامنا اس وقت پاکستان سمیت ساری دنیا کو ہے۔ بحران میں حکومت یہی کرتی ہے کہ ٹیکسز کو کم سے کم کردیتی ہے۔
پھر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پٹرول باہر سے آتا ہے تو باقی کھانے پینے کی چیزیں کیوں مہنگی ہیں، سوال یہ ہے کہ گندم، چاول وغیرہ کے سوا آپ کے ملک میں اگتا کیا ہے؟ بناسپتی گھی اور خوردنی تیل آپ باہر سے منگواتے ہو۔ پام آئل، سویا بین بناسپتی گھی اور خوردنی تیل بنتا ہے۔
صوبہ سندھ اس کی کاشت کے لیے موزوں علاقہ ہے لیکن آپ نے آج تک کبھی توجہ نہ دی۔ جس کا نتیجہ ہوا کہ آج وی پام آئل جو پچھلے سال 5 سو ڈالر فی میٹرک ٹن تھا آج 12 سو ڈالر فی میٹرک ٹن ہوچکا ہے۔۔راء میٹریل مہنگا ہوگا تو آپ کو آئل یا گھی سستا کیسے ملے گا؟؟
دالیں آپکے ملک میں پیدا نہیں ہوتی بلکہ باہر کے ملک سے منگواتے ہیں، گرم مصالحے، خشک دودھ، دہی، پنیر یہ چیزیں آپ باہر سے درآمد کرتے ہیں۔ اس کے بعد گھر کی فصلوں پر بات کرلیں۔

گندم ، مونجی، کپاس، یہ سب فصلیں پچھلے 10 سالوں میں پاکستان میں تباہ حال ہوئی جن کی مختلف وجوہات ہیں۔
ان میں سے ایک بڑی وجہ کسان کو اس کی فصل کا ریٹ کا نہ ملنا تھا۔ جس سے کسان فصل اگانے بند کرنے لگا اور ان فصلوں کی کاشت متاثر ہونے لگی۔

جس میں سب سے زیادہ کپاس متاثر ہوئی۔ 2018 کے بعد اس حکومت نے جہاں زراعت میں کام کیا وہیں ہر فصل کا ریٹ اچھا مقرر کیا۔
جس کا نتیجہ کسان خوشحال ہوا اور گندم، کپاس،مونجی کی پیدوار بڑھنے لگی۔ 2018 میں گندم کا ریٹ 1300 اور آج 1950/2000 ہے۔ گنے کا ریٹ 2018 میں 150 اور اب 300 روپے ہے۔۔مونجی 2017، 2018 میں 13 سو روپے ریٹ تھا پچھلے سال 2200 کے آس پاس ریٹ لگا۔
اس وقت DAP کھاد جس کا پاکستان میں ایک ہی پلانٹ ہے ایف ایف بی ایل میں۔ وہ پاکستان کی ڈیمانڈ پوری نہیں کرپارہا۔ جس کے بعد 2019 میں ایف ایف بی ایل نے ڈی اے پی کا نیا پلانٹ لگانے کا این او سی لیا اور پلانٹ شروع کیا۔ لیکن باقی کی ڈیمانڈ آج بھی DAP باہر سے درآمد کرکے پوری کرنی پڑتی ہے۔
اس ملک میں آج تک بنایا کیا جاتا ہے؟ جو چیز بنائی جاتی ہے اس کے بھی ریٹ اتنے کم کردو کہ وہ چیز بھی بننی بند ہوجائے۔اب یہ چیزیں اتنا پڑھ لکھ کر آپکو نہیں پتہ تو اس میں حکومت کاکیا قصور؟

یہ مہنگائی اس وقت حکومتی نااہلی اور نہ ہی گورننس کا مسئلہ ہے۔ یہ عالمی بحران کا نتیجہ ہے.
جس میں اوپیک نے تیل کی پروڈکشن کم کی ہوئی ہے جس سے آئل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بڑھتی جارہی ہیں۔اور اگر اوپیک نے پروڈکشن نہ بڑھائی تو یہ قیمت دسمبر میں 100 ڈالر فی بیرل پر پہنچ رہی ہے۔85 بیرل پر آلریڈی پہنچ چکی ہے۔

Published by Malik Zohaib Ali

Other account profile Twitter_ @zohaibalireal FaceBook_ malick ali Instagram_ @zohaibAliReal_

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started