حضرت ایوب کا تعلق امل روم سے تھا ۔ اللہ
تعالی نے انہیں اپنا رسول چن لیا تھا ۔ حضرت
ایوب نهایت صابر و شاکر اور عاجز انسان
تھے۔
اللہ تعالی عاجزی ، انکساری اور شکر گزاری کو
پسند فرماتے ہیں ۔ حضرت ایوب نہایت مالدار
شخص تھے ۔ اللہ تعالی نے انہیں دنیاوی مال
وزر کے ساتھ ساتھ اولادوں کی نعمت بھی عطا
فرمائی ۔
حضرت ایوب نهایت خداترس انسان تھےغریبوں کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے
تھے ۔ پھر اللہ تعالی کی طرف سے ان کی
آزمائش شروع ہوئی اور ان کے مال و اسباب
سب ختم ہو گئے ، ان کے بچے بھی اللہ کو
پیارے ہو گئے اور ان کا سارا جسم زخموں سے
بھر گیا۔
آپ اس پر بھی صابر و شاکر ر ہے اور شکایت
کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ لا ئے ۔ حضرت
ایوب کی بیماری بڑھتی چلی گئی تو آپ
کے ساتھی بھی آپ کا ساتھ چھوڑ گئے ۔ایسے مشکل وقت میں صرف آپ کی بیوی
نے آپ کا ساتھ دیا۔ جیسے جیے مصیبتیں
گئیں ۔ ان کے صبر اور شکر میں اضافہ ہوتا
گیا۔
آپ کی بیوی نے بار بار اصرار کیا کہ اسے اللہ
کے نبی اپنے رب سے شفا کے لیے دعا کھے
چنانچہ، یہ سن کر حضرت ایوب نے رو رو کر اللہ
سے دعا کی اور اللہ کے معجزے سے زمین سے
چشمہ پھوٹا اس پانی کے استعمال سے حضرت
ایوب بالکل تندرست و توانا ہو گئے ۔گئیں ۔ ان کے صبر اور شکر میں اضافہ ہو تا
کیا ۔
آپ کی بیوی نے بار بار اصرار کیا کہ اسے اللہ
کے نبی اپنے رب سے شفا کے لیے دعا کیجیے
چنانچہ یہ سن کر حضرت ایوب نے رو رو کر اللہ
سے دعا کی اور اللہ کے معجزے سے زمین سے
چشمہ پھوٹا اس پانی کے استعمال سے حضرت
ایوب بالکل تندرست و توانا ہو گئے ۔
اللہ نے آپ کو اور آپ کی بیوی کو جوانی بخشی
اور پہلے سے زیادہ خوشحال اور مال دار ہو گئے ۔